MOJ E SUKHAN

اس عالم میں دیکھنے والے تو نے دیکھا کیا کیا کچھ

غزل

اس عالم میں دیکھنے والے تو نے دیکھا کیا کیا کچھ
منظر منظر ایک تحیر اس میں بہتا ہوگا کچھ
وہ آنکھیں وہ جھیل سی آنکھیں ان میں ڈوب کے جانا ہے
اور پھر سب کو دیکھنا ہوگا اس میں منظر جیسا کچھ
اول اول اس کے جسم کی خوشبو سے دل شاد ہوا
اور پھر بھیڑ میں یکدم کھوگیا پھولوں جیسا چہرہ کچھ
ہر منظر کے عین مطابق نقش بنے تھے کوزے پر
ہر منظر کے عین مطابق چاک پہ آیا کیا کیا کچھ
دل کے ہر اک کونے سے آوازیں آئیں رات گئے
تو نے بھی آہوں کو سنا تھا تو نے بھی تھا دیکھا کچھ
مانا دونوں ساتھ نہیں ہیں پھر بھی میرے ساتھ ہے وہ
کاش! اس دل کی ویرانی میں پہلے جیسا رہتا کچھ
عشق کا ہر اک کھیل تو اس نے کھیل لیا ہے مجھ سے ندیم
اور بھلا اب ہونا کیا ہے ہونا ہو تو ہوگا کچھ
ندیم ملک
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم