MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا

حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا
شہر میں ڈھیر نہ لگ جائے گریبانوں کا

یہ مرا ضبط ہے یا تیری ادا کی تہذیب
رنگ آنکھوں میں جھلکتا نہیں ارمانوں کا

میکدے کے یہی آداب ہیں رندو سن لو
غم نہیں کرتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا

سانس لینے کو کوئی اور ٹھکانا ڈھونڈو
شہر جنگل سا ہوا جاتا ہے انسانوں کا

اب حقیقت کی تہوں تک کوئی کیسے پہونچے
ایک طوفان بپا ہے یہاں افسانوں کا

یوسف تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم