MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بھیس کیا کیا نہ زمانے میں بنائے ہم نے

بھیس کیا کیا نہ زمانے میں بنائے ہم نے
ایک چہرے پہ کئی چہرے لگائے ہم نے

اس تمنا میں کہ اس راہ سے تو گزرے گا
دیپ ہر راہ میں ہر رات جلائے ہم نے

دل سے نکلی نہ خراش غم ایام کی دھوپ
تیرے ناخن سے کئی چاند بنائے ہم نے

دامن یار نے حق اپنا جتایا نہ کبھی
اشک امڈے بھی تو پلکوں میں چھپائے ہم نے

خود ہوئے غرق زمانے کو بھی غرقاب کیا
ایک آنسو سے وہ طوفان اٹھائے ہم نے

تیرے پہلو سے بھی پہنچے نہ ترے پہلو تک
فاصلے قرب کے گو لاکھ گھٹائے ہم نے

چہرے کتبے سہی کتبوں کی عبارت پہ نہ جا
ابھی لفظوں سے کہاں پردے اٹھائے ہم نے

شعر کہنے سے نہ محبوب نہ دنیا ہی ملی
عمر بھر شعر کہے شعر سنائے ہم نے

سلیمان اریب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم