MOJ E SUKHAN

اقرار سے آیا ہے نہ انکار سے آیا

اقرار سے آیا ہے نہ انکار سے آیا
مجھ کو جو مزا لذتِ گفتار سے آیا

ہر چند تھا وہ سارے زمانے سے گریزاں
پر میری طرف تیر کی رفتار سے آیا

کس واسطے سمجھوں میں اسے جان کا دشمن
جو شخص مرے پاس بڑے پیار سے آیا

میں بن پیے مخمور تھا کچھ اس کی نظر سے
کچھ اور نشہ زلف سے، رخسار سے آیا

حق بات کہوں برسراحباب و رقیباں
یہ حوصلہ مجھ میں مرے کردار سے آیا

مفقود ہے وہ عہد رواں کے شعراء میں
جو لطف مجھے،میر کے اشعار سے آیا

تھا سہما ہوا صبح کے اخبار سے ناصر
کچھ خوف اسے شام کے اخبار سے آیا

ناصر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم