MOJ E SUKHAN

یہ گل جس خاک سے لایا گیا ہے

یہ گل جس خاک سے لایا گیا ہے
اسے افلاک سے لایا گیا ہے

چمن پہ رنگ آتا ہی نہیں تھا
تری پوشاک سے لایا گیا ہے

یہ دل جس سے میں شرمندہ بہت ہوں
اسی بے باک سے لایا گیا ہے

اجالا ہے جو یہ کون و مکاں میں
ہماری خاک سے لایا گیا ہے

یہ جو کچھ بھی ہے آیا ہے کہاں سے
دل صد چاک سے لایا گیا ہے

یہاں کتنوں نے دیکھا ہے جو طوفاں
خس و خاشاک سے لایا گیا ہے

اکبر معصوم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم