MOJ E SUKHAN

ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر

ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر
منتظر جانے کس کی رہی رات بھر

ہم جلاتے رہے اپنے دل کے دیے
تیرگی قتل ہوتی رہی رات بھر

میری آنکھوں کو کر کے عطا رت جگے
میری تنہائی سوتی رہی رات بھر

ایک خوشبو درازوں سے چھنتی ہوئی
دستکیں جیسے دیتی رہی رات بھر

دل کے اندر کوئی جیسے چلتا رہا
چاپ قدموں کی آتی رہی رات بھر

ایک تحریر جو اس کے ہاتھوں کی تھی
بات وہ مجھ سے کرتی رہی رات بھر

ایک صورت علیؔ تھی جو جان غزل
میرے شعروں میں ڈھلتی رہی رات بھر

علی احمد جلیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم