سہل ہوتی ہی نہیں زندگیاں اے مرے دل
وہی بے چارگیاں بے بسیاں اے مرے دل
پھر سے درپیش ہے اک عہدِ زیاں کس سے کہیں
اور ہمراہ ہیں شرمندگیاں اے مرے دل
اس قدر بھی کوئی ہو سکتا ہے منت کشِ غم
اور گہری ہوئیں افسردگیاں اے مرے دل
اس قدر بھی کوئی ہو سکتا ہے مجبور و حریص
روز بدلی گئیں وابستگیاں اے مرے دل
وہ چکا چوند ہے دیکھو کہ نہیں کھلتی آنکھ
میرے کس کام کی یہ روشنیاں اے مرے دل
جی بہلتا ہے نہ مل کر ہی قرار آتا ہے
اب نہ وہ دوست نہ وہ دوستیاں اے مرے دل
فتح کا جوش نہ دل میں نہ لہو میں گرمی
اب نہ وہ لوگ نہ وہ دشمنیاں اے مرے دل
ڈاکٹر اقبال پیرزادہ