MOJ E SUKHAN

ادھر سے آئے تو پھر لوٹ کر نہیں گئے ہم

غزل

ادھر سے آئے تو پھر لوٹ کر نہیں گئے ہم
پکارتی رہی دنیا مگر نہیں گئے ہم

اگرچہ خاک ہماری بہت ہوئی پامال
برنگ نقش کف پا ابھر نہیں گئے ہم

حصول کچھ نہ ہوا جز غبار حیرانی
کہاں کہاں تری آواز پر نہیں گئے ہم

منا رہے تھے وہاں لوگ جشن بے خوابی
یہاں تھے خواب بہت سو ادھر نہیں گئے ہم

چڑھا ہوا تھا وہ دریا اگر ہمارے لیے
تو دیکھتے ہی رہے کیوں اتر نہیں گئے ہم

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم