MOJ E SUKHAN

بحر بے کنار تو

غزل

بحر بے کنار تو
میں ذرا سی آب جو

عکس ہے خجل خجل
آئنے کے رو بہ رو

دوستوں نے دیکھ لی
کر کے میری جستجو

اب کئی دنوں سے ہوں
میں ہی اپنے دو بدو

پھول چن رہا تھا میں
تم تھے محو گفتگو

تیرے در کو چھوڑ کے
پھر رہے ہیں کو بہ کو

تذکرہ ہو چاند کا
یا تمہاری گفتگو

آئنے سے بات کر
آ کبھی تو روبرو

دیکھ خاک زادوں کی
لا مکاں کی آرزو

چلے چلو یہی تو ہے
آبلوں کی آبرو

تیرے در پہ پھول بھی
مانگتے ہیں رنگ و بو

افتخار شاہد ابو سعد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم