MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چاہے مانو برا ہم نہیں مانتے

غزل

چاہے مانو برا ہم نہیں مانتے
پتھروں کو خدا ہم نہیں مانتے

جس کے ہونے نہ ہونے کی تصدیق ہو
اس خدا کو خدا ہم نہیں مانتے

مانتے ہیں اسے جو دکھائی نہ دے
اور کوئی خدا ہم نہیں مانتے

چاہے کتنا ہی مشکل ہو جینا اسے
زندگی کو سزا ہم نہیں مانتے

اپنے اعمال کی بھی ہے کچھ تو خطا
سب ہے رب کی رضا ہم نہیں مانتے

ہم کو خود بھی نہیں کچھ پتا دوستو
مانتے بھی ہیں یا ہم نہیں مانتے

مانتے ہیں بری عادتوں کا برا
غلطیوں کا برا ہم نہیں مانتے

ہم سمجھتے ہیں سر پر چڑھانا برا
پیار کا تو برا ہم نہیں مانتے

مے کے پینے سے کتنی بھی راحت ملے
مے کا پینا بجا ہم نہیں مانتے

دوش دے سکتے ہیں اپنی تقدیر کو
یار کو بے وفا ہم نہیں مانتے

مان سکتے ہیں ہم اس کو اک خوف ہی
کچھ ہے رب سے بڑا ہم نہیں مانتے

کیوں یہی کچھ ہی پروازؔ اکثر کہو
میں نہیں مانتا ہم نہیں مانتے

درشن دیال پرواز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم