MOJ E SUKHAN

تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں

غزل

تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں
اک سمندر کے دو کنارے ہیں

دشت امکاں سے کوئے جاناں تک
زیست نے کتنے روپ دھارے ہیں

پھول خوشبو چراغ موج صبا
یہ محبت کے استعارے ہیں

کس لئے رقص میں ہے چرخ کہن
کیوں تعاقب میں چاند تارے ہیں

حاصل زندگی ہیں وہ لمحے
جو غم ہجر میں گزارے ہیں

صبح نو کے نئے نئے منظر
کتنے دل کش ہیں کتنے پیارے ہیں

جن کو اخترؔ شعور ذات نہ تھا
جیتی بازی وہ لوگ ہارے ہیں

اختر سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم