MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنا

غزل

اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنا
دل ہو زخمی بھی تو ہونٹوں پہ تبسم رکھنا

اور زخموں کا اضافہ ہی سہی جب بھی ملیں
تو مگر اپنا یہی طرز تکلم رکھنا

میرے اذکار کا رشتہ تری آواز سے ہے
میرے گہنوں کے لیے اپنا ترنم رکھنا

تو نے کیوں مجھ سے بچھڑتے ہوئے یہ بات کہی
خود کو تنہا نہ بچھڑنے پہ کبھی تم رکھنا

آج جینا بھی قمرؔ ایک اداکاری ہے
شہر کے شور میں تم خود کو نہ گم صم رکھنا

قمر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم