MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہاں بھی زہر زباں کام کر گیا ہوگا

وہاں بھی زہر زباں کام کر گیا ہوگا
کہ آدمی تھا وہ باتوں سے ڈر گیا ہوگا

تھی میں بھی اس پہ ہنسی مل کے اس جہاں کے ساتھ
یہ سن کے شرم سے شاید وہ مر گیا ہوگا

ہزار بار سنا پھر بھی دل نہیں مانا
کہ میرے پیار سے دل اس کا بھر گیا ہوگا

نئے مکین ہیں اب واں اسے خبر کب تھی
بڑے خلوص سے وہ میرے گھر گیا ہوگا

کوئی دریچہ کھلا رہ گیا تھا آندھی میں
مرا وجود یقیناً بکھر گیا ہوگا

وہ جانتا تو ہے محفل کے بھی سبھی آداب
جو دیکھ کر نہیں اٹھا تو ڈر گیا ہوگا

نہ ہو جو سطح پہ ہلچل تو اس سے یہ نہ سمجھ
چڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا ہوگا

شبنم شکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم