MOJ E SUKHAN

جانے کتنی دیر چلے گی ساتھ مرے چمکیلی دھوپ

جانے کتنی دیر چلے گی ساتھ مرے چمکیلی دھوپ
آنے والا موسم لائے شاید گیلی گیلی دھوپ

قریہ قریہ کانپ رہا ہے سرد ہوا کے جھونکوں سے
کتنے آنگن گرمائے گی تنہا ایک اکیلی دھوپ

چنچل شوخ ادا کرنیں تو دور دشا تک جا پہنچیں
بیٹھی خود کو کوس رہی ہے آنگن کی شرمیلی دھوپ

عظمت کی مستحکم چوٹی شاید اس کو راس نہ آئی
ہر چوکھٹ کو چھونے نکلی شہرت کی رنگیلی دھوپ

ہم نے اپنی حرص و ہوس کو بخشی اتنی تابانی
اب کی صدی میں شاید پھیلے بستی میں زہریلی دھوپ

یوسف تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم