MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آشیاں اجڑا مرا تو کیا ہوا

غزل

آشیاں اجڑا مرا تو کیا ہوا
غم تو اس کا ہے چمن صحرا ہوا

تھا کچھ ایسا ہی تقاضا عشق کا
ہم نے دیکھا اپنا گھر لٹتا ہوا

تھا کبھی دل ایک شہر آرزو
رفتہ رفتہ یاس کا صحرا ہوا

ذرہ ذرہ ہے دل بے تاب سا
اک جہاں ہے درد کا مارا ہوا

کیا خبر تھی ہوگا منزل کا چراغ
اک مسافر راستہ بھٹکا ہوا

ضبط‌ دل کا حوصلہ تو دیکھیے
غم کا دریا ہے ابھی ٹھہرا ہوا

آئنے کو دیکھ کر شرما گئے
آپ کو شاید مرا دھوکا ہوا

اپنی رسوائی سے میں خوش ہوں نظیرؔ
غم تو یہ ہے ان کا غم رسوا ہوا

سعادت نظیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم