MOJ E SUKHAN

عدالتوں میں گواہی سے خوش نہیں لگتا

عدالتوں میں گواہی سے خوش نہیں لگتا
یہ شہر میری رہائی سے خوش نہیں لگتا

سبھی کو وصل سے لذّت کشید کرنی ہے
یہاں کوئی بھی جدائی سے خوش نہیں لگتا

اڑا ہوا ہے پرندو کا رنگ جنگل میں
یہ دشت بھی ترے بھائی سے خوش نہیں لگتا

بجھا پڑا ہے سرِ شام طاقچے میں کہیں
چراغ گھر کی تباہی سے خوش نہیں لگتا

یہاں پہ اپنے مسائل عزیز ہیں سب کو
کوئی کسی کی کمائی سے خوش نہیں لگتا

رمزی آثم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم