MOJ E SUKHAN

جان پیاری تھی مگر جان سے بے زاری تھی

غزل

جان پیاری تھی مگر جان سے بے زاری تھی
جان کا کام فقط جان فروشی نکلا

خاک میں اس کی جدائی میں پریشان پھروں
جب کہ یہ ملنا بچھڑنا مری مرضی نکلا

صرف رونا ہے کہ جینا پڑا ہلکا بن کے
وہ تو احساس کی میزان پہ بھاری نکلا

اک نئے نام سے پھر اپنے ستارے الجھے
یہ نیا کھیل نئے خواب کا بانی نکلا

وہ مری روح کی الجھن کا سبب جانتا ہے
جسم کی پیاس بجھانے پہ بھی راضی نکلا

میری بجھتی ہوئی آنکھوں سے کرن چنتا ہے
میری آنکھوں کا کھنڈر شہر معانی نکلا

میری عیار نگاہوں سے وفا مانگتا ہے
وہ بھی محتاج ملا وہ بھی سوالی نکلا

میں اسے ڈھونڈ رہا تھا کہ تلاش اپنی تھی
اک چمکتا ہوا جذبہ تھا کہ جعلی نکلا

میں نے چاہا تھا کہ اشکوں کا تماشا دیکھوں
اور آنکھوں کا خزانہ تھا کہ خالی نکلا

اک نئی دھوپ میں پھر اپنا سفر جاری ہے
وہ گھنا سایہ فقط طفل تسلی نکلا

میں بہت تیز چلا اپنی تباہی کی طرف
اس کے چھٹنے کا سبب نرم خرامی نکلا

روح کا دشت وہی جسم کا ویرانہ ہے
ہر نیا راز پرانا لگا باسی نکلا

صرف حشمت کی طلب جاہ کی خواہش پائی
دل کو بے داغ سمجھتا تھا جزامی نکلا

اک بلا آتی ہے اور لوگ چلے جاتے ہیں
اک صدا کہتی ہے ہر آدمی فانی نکلا

میں وہ مردہ ہوں کہ آنکھیں مری زندوں جیسی
بین کرتا ہوں کہ میں اپنا ہی ثانی نکلا

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم