MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ترا نیاز مند ہوں نیاز کے بغیر بھی

ترا نیاز مند ہوں نیاز کے بغیر بھی

دلیل کے بغیر بھی جواز کے بغیر بھی

مثال کیا کہ سر بسر ترا وجود شاعری

کلام کے بغیر بھی بیاض کے بغیر بھی

تری طلب کا فاصلہ خلش نے طے کرا دیا

سلوک کے بغیر بھی لحاظ کے بغیر بھی

گزر رہی تھی زندگی گزر رہی ہے زندگی

نشیب کے بغیر بھی فراز کے بغیر بھی

تری نگاہ خود نگر دلوں کو مات کر گئی

لڑائی کے بغیر بھی محاذ کے بغیر بھی

روا ہے عشق میں روا مگر یہ سجدۂ وفا

اذان کے بغیر بھی نماز کے بغیر بھی

جاوید صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم