MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یاد آتے ہو کس سلیقے سے

یاد آتے ہو کس سلیقے سے
جیسے بارش ہو وقفے وقفے سے

یاد کوئی رہی ہو وابستہ
جیسے ہر رت کے خاص لمحے سے

جیسے یہ بھی ہو حسن کا انداز
بات کرنا مگر تقاضے سے

موسم گل کو کوئی بتلا دو
دل بھی کھلتا ہے پھول کھلنے سے

رات کا اپنا حسن ہوتا ہے
رات کو دیکھ دن کے شیشے سے

میرے سینے میں رکھ گیا ہر درد
میرا ہمدرد کس قرینے سے

اک شہادت ہے راہ میں مرنا
موت ہے لوٹ جانا رستے سے

لطف اونچی اڑان میں کیا ہے
پوچھ لینا کسی پرندے سے

ہر مخالف ہے واجب القتل آج
تیرے اسلام کے حوالے سے

کار فرما ہے کیا پس الفاظ
کتنا واضح ہے تیرے لہجے سے

کون سی بات ہو گئی ایسی
یار اٹھنے لگے ہیں چپکے سے

دیکھ رفتار زندگی روحیؔ
رک گئی گاڑی ایک جھٹکے سے

روحی کنجاہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم