MOJ E SUKHAN

جب اس نے گفتگو میں ہجر و وصال باندھے۔۔۔

جب اس نے گفتگو میں ہجر و وصال باندھے۔۔۔
ہم نے بھی اپنے دل میں کیا کیا خیال باندھے۔۔۔

اب عمر کٹ چکی ھے اب کیا شمار کرنا۔
آنچل میں زندگی نے کتنے ملال باندھے ۔۔۔۔۔

اس عہد کے ستم کو لکھے گا کون آخر۔
ہر شخص ہی سخن میںحسن و جمال باندھے۔۔۔

یہ کونسا قرینہ اس میں ہے دلبری کا۔
خود ہی وہ زخم دے پھر خود اندمال باندھے۔

حیرت سرا ہے دنیا ہم حیرتی یہ سوچیں۔۔۔
کس نے قدم قدم پر کشف و کمال باندھے۔۔۔

اس قریہ فغاں میں بس تیرا رنج دیکھا۔
مجھ دل کی وحشتوں کو کب کوئ جال باندھے۔۔۔

کیسا تھا وقت۔رخصت خاموشیوں نے اپنی۔۔
خود ہی جواب باندھے خود ہی سوال باندھے۔۔

نیرنگئ۔جہاں سے میں آشنا ہوں کیسے۔۔
باندھے وہ جب خبر میں اپنا ہی حال باندھے۔۔۔

ہر ایک نے تمہارے فن کو حجاب مانا۔۔
حرف و سخن میں تم نے جب بھی کمال باندھے۔۔۔۔۔

حجاب عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم