MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

توڑ کر جوڑ دیا کرتے ہو کیا کرتے ہو

توڑ کر جوڑ دیا کرتے ہو کیا کرتے ہو
دل پہ یوں مشق جفا کرتے ہو کیا کرتے ہو

راز دل فاش کیا کرتے ہو کیا کرتے ہو
نام سے میرے حیا کرتے ہو کیا کرتے ہو

روز اقرار وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو
زخم دل پھر سے ہرا کرتے ہو کیا کرتے ہو

تم سے منسوب ہے اک عہد وفا کا اقرار
تم بھی توہین وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو

شیشۂ دل کے برتنے کا سلیقہ دیکھو
تم تو بس توڑ دیا کرتے ہو کیا کرتے ہو

شوق کو پہلے ذرا حد سے سوا ہونے دو
درد کو حد سے سوا کرتے ہو کیا کرتے ہو

عشوۂ جاں طلبی مورد الزام نہ ہو
مجھ سے کہتے رہو کیا کرتے ہو کیا کرتے ہو

ہر گھڑی اس لب شیریں کا تصور اخگرؔ
تلخ جینے کا مزا کرتے ہو کیا کرتے ہو

حنیف اخگر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم