MOJ E SUKHAN

دل میں یاروں کے کیا سمائی ہے

دل میں یاروں کے کیا سمائی ہے
بات مُجھ سے مِری کرائی ہے

گھر میں روپوش تھے اندھیرے جب
بند کھڑکی سے دُھوپ آئی ہے

سَر سَری ذِکر کر گئے دِل کا
باتوں باتوں میں بات آئی ہے

جانتا ہُوں امیروں کو جن کی
خاک بِستر ٗ فلک رَضائی ہے

راز کی بات راز ہی رکھنا
سب کو اِس شرط پر بتائی ہے

قہقہے زندگی کے ضامِن ہیں
جُرم ہے کُچھ تو لب کُشائی ہے

میں بھی جاویدؔ کیا کروں آخر
میری مِٹّی میں خُود نُمائی ہے

جاوید احمد خان جاویدؔ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم