دل میں یاروں کے کیا سمائی ہے
بات مُجھ سے مِری کرائی ہے
گھر میں روپوش تھے اندھیرے جب
بند کھڑکی سے دُھوپ آئی ہے
سَر سَری ذِکر کر گئے دِل کا
باتوں باتوں میں بات آئی ہے
جانتا ہُوں امیروں کو جن کی
خاک بِستر ٗ فلک رَضائی ہے
راز کی بات راز ہی رکھنا
سب کو اِس شرط پر بتائی ہے
قہقہے زندگی کے ضامِن ہیں
جُرم ہے کُچھ تو لب کُشائی ہے
میں بھی جاویدؔ کیا کروں آخر
میری مِٹّی میں خُود نُمائی ہے
جاوید احمد خان جاویدؔ