MOJ E SUKHAN

جلوۂ عشق حقیقت تھی حسن مجاز بہانہ تھا

جلوۂ عشق حقیقت تھی حسن مجاز بہانہ تھا
شمع جسے ہم سمجھے تھے شمع نہ تھی پروانہ تھا​

شعبدے آنکھوں کے ہم نے ایسے کتنے دیکھے ہیں
آنکھ کھلی تو دنیا تھی بند ہوئی افسانہ تھا

عہد جوانی ختم ہوا اب مرتے ہیں نہ جیتے ہیں


ہم بھی جیتے تھے جب تک مر جانے کا زمانہ تھا

دل اب دل ہے خدا رکھے ساقی کو مے خانے کو
ورنہ کسے معلوم نہیں ٹوٹا سا پیمانہ تھا

فانیؔ کو کیسا ہی سہی پھر بھی تجھی سے نسبت تھی
دیوانہ تھا تھا کس کا تیرا ہی دیوانہ تھا

. . . . . . . فانی بدایونی . . . . . . .

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم