Uss ka Dil kis nay toora Bataati Nahee
غزل
اس کا دل کس نے توڑا بتاتی نہیں
بہتے آنسو مگر وہ چھپاتی نہیں
دل ہے مردہ مگر وہ جیے جا رہی
لوگ کہتے ہیں وہ مسکراتی نہیں
گنگناتی تو ہے آج بھی وہ مگر
گیت چاہت بھرے اب وہ گاتی نہیں
اب تو محفل بھی تنہا سجاتی ہے وہ
دوستوں کو کبھی بھی بلاتی نہیں
کوئی روٹھے اسے فرق پڑتا نہیں
آگے بڑھ کر کسی کو مناتی نہیں
جاں لٹاتی تھی جو اپنے احباب پر
دل سے اب وہ تعلق نبھاتی نہیں
ہیں بہت زخم ریحانہ دل پر مگر
ان کے قصے کبھی وہ سناتی نہیں
ریحانہ اعجاز
Rehana Aijaz