MOJ E SUKHAN

ہر رستہ پر بہار ہوا ہے ابھی ابھی

ہر رستہ پر بہار ہوا ہے ابھی ابھی
دل دل کا رازدار ہوا ہے ابھی ابھی

دامن کی دھجیوں کو ستاروں سے باندھ کر
کوئی فلک کے پار ہوا ہے ابھی ابھی

اس کو پتا نہیں ہے خزاں کے مزاج کا
وہ واقف بہار ہوا ہے ابھی ابھی

عشق بشر سے عشق خدا معتبر ہوا
یہ نکتہ آشکار ہوا ہے ابھی ابھی

اشکوں میں تیر اٹھی لہو کی لکیر سی
دل پر نظر کا وار ہوا ہے ابھی ابھی

آ جا خدا کے واسطے آ جا نہ دیر کر
دل میرا وا گزار ہوا ہے ابھی ابھی

موجوں کی سینہ کوبی بتاتی ہے برملا
دریا کے کوئی پار ہوا ہے ابھی ابھی

اس پر لکھی تھی جان محبت کی داستاں
دامن جو تار تار ہوا ہے ابھی ابھی

جان کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم