MOJ E SUKHAN

خلاوں کا سفر کرنا ہے مجھ کو

خلاوں کا سفر کرنا ہے مجھ کو
پرندوں کی طرح اڑنا ہے مجھ کو

سند دینے کو اپنے حوصلے کی
بلندی کو بھی سر کرنا یے مجھ کو

بہت عرصے سے زنجیر۔قفس ہوں
یہ پنجرہ توڑ کر اڑنا ہے مجھ کو

مرے جوڑے میں  اس کا پھول مہکے
شجر کو خوں سے تر کرنا ہے مجھ کو

خطائیں جو  ہوئیں  ہیں تم سے  سرزد
انہیں صرف۔نظر کرنا ہے مجھ کو

کوئی لغزش نہ سرزد ہو کہیں  پر
اسی لمحے سے بس ڈرنا ہے مجھ کو

محبت کا تری کشکول رضیہ
بہت خالی ہے یہ بھرنا ہے مجھ کو

رضیہ سبحان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم