MOJ E SUKHAN

کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے

غزل

کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے
یہ نہ سوچو کہ رات باقی ہے

عشق کی بات ہے ابھی کر لو
بھول جاؤ حیات باقی ہے

ساری دنیا ہے پھر بھی تنہا ہوں
اک تمہارا ہی ساتھ باقی ہے

آج کہتے ہیں بس شراب شراب
کل کہیں گے نجات باقی ہے

پہلے لازم ہے جیتنا دل کا
پھر کہاں کائنات باقی ہے

راکیش الفت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم