MOJ E SUKHAN

دانتوں میں زبان لے رہا ہوں

دانتوں میں زبان لے رہا ہوں
خود اپنا بیان لے رہا ہوں

غزلیں تو لکھوں گا پانیوں پر
دریا پہ مکان لے رہا ہوں

لفظوں کے کھلونے بیچنے ہیں
کاغذ کی دکان لے رہا ہوں

ظلمت کو شکستِ فاش دوں گا
سورج کا نشان لے رہا ہوں

برسوں سے مکاں نہیں ملا ہے
برسوں سے مکان لے رہا ہوں

سورج کا بٹھا کے ساتھ بیدلؔ
شبنم کا بیان لے رہا ہوں​

بیدل حیدری​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم