MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سوا ہے حد سے اب احساس کی گرانی بھی

سوا ہے حد سے اب احساس کی گرانی بھی
گراں گزرنے لگی ان کی مہربانی بھی

کس اہتمام سے پڑھتے رہے صحیفۂ زیست
چلیں کہ ختم ہوئی اب تو وہ کہانی بھی

لکھو تو خون جگر سے ہوا کی لہروں پر
یہ داستاں انوکھی بھی ہے پرانی بھی

کسی طرح سے بھی وہ گوہر طلب نہ ملا
ہزار بار لٹائی ہے زندگانی بھی

ہمیں سے انجمن عشق معتبر ٹھہری
ہمیں کو سونپی گئی غم کی پاسبانی بھی

یہ کیا عجب کہ وہی بحر نیستی میں گری
نفس کی موج میں مستی بھی تھی روانی بھی

شعور و فکر سے آگے ہے چشمۂ تخلیق
ہٹے گا سنگ تو بہنے لگے گا پانی بھی

زاہدہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم