MOJ E SUKHAN

چاند کا عکس تہہ آب چمکتا دیکھو

غزل

چاند کا عکس تہہ آب چمکتا دیکھو
یوں بھی درد دل بیتاب چمکتا دیکھو

جانے کس راہ پہ راتوں کے مسافر نکلیں
کوئی خورشید دم خواب چمکتا دیکھو

جہل نے توڑ دئے اہل تدبر کے سبو
ساغر عصر میں زہراب چمکتا دیکھو

کل ملے یا نہ ملے فکر معیشت سے نجات
آج کی رات تو مہتاب چمکتا دیکھو

پر کسی شہر طرب ناک کو جاتا ہے خیال
پھر کوئی گل کدۂ خواب چمکتا دیکھو

ہے پرے نرغۂ ظلمت سے زمانہ اپنا
افق فکر جہاں تاب چمکتا دیکھو

شہر احساس کے ہر موڑ پہ راتیں ہیں عروجؔ
شہر احساس کا ہر باب چمکتا دیکھو

عبد الرؤف عروج

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم