MOJ E SUKHAN

دل اک نئی دنیائے معانی سے ملا ہے

دل اک نئی دنیائے معانی سے ملا ہے
یہ پھل بھی ہمیں نقل مکانی سے ملا ہے

جو نام کبھی نقش تھا دل پر وہ نہیں یاد
اب اس کا پتا یاد دہانی سے ملا ہے

یہ درد کی دہلیز پہ سر پھوڑتی دنیا
اس کا بھی سرا میری کہانی سے ملا ہے

کھوئے ہوئے لوگوں کا سراغ اہل سفر کو
جلتے ہوئے خیموں کی نشانی سے ملا ہے

خاطر میں کسی کو بھی نہ لانے کا یہ انداز
بپھری ہوئی موجوں کی روانی سے ملا ہے

لفظوں میں ہر اک رنج سمونے کا قرینہ
اس آنکھ میں ٹھہرے ہوئے پانی سے ملا ہے

یہ صبح کی آغوش میں کھلتا ہوا منظر
اک سلسلۂ شب کی گرانی سے ملا ہے

اشفاق حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم