MOJ E SUKHAN

راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے

راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے
سر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے

آگ ہی آگ ہو سینے میں تو کیا پھول جھڑیں
شعلہ ہوتی ہے زباں لفظ شرر بنتا ہے

زندگی سوچ عذابوں میں گزاری ہے میاں
ایک دن میں کہاں انداز نظر بنتا ہے

مدعی تخت کے آتے ہیں چلے جاتے ہیں
شہر کا تاج کوئی خاک بسر بنتا ہے

عشق کی راہ کے معیار الگ ہوتے ہیں
اک جدا زائچۂ نفع و ضرر بنتا ہے

اپنا اظہار اسیر روش عام نہیں
جیسے کہہ دیں وہی معیار ہنر بنتا ہے

جلیل عالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم