MOJ E SUKHAN

راہ طلب میں آج یہ کیا معجزہ ہوا

غزل

راہ طلب میں آج یہ کیا معجزہ ہوا
خواب عدم میں جو بھی گیا جاگتا ہوا

میداں میں ہار جیت کا یوں فیصلہ ہوا
دنیا تھی ان کے ساتھ ہمارا خدا ہوا

برسوں کی دوستی کا چلن کیا سے کیا ہوا
کس منہ سے ہم ملیں گے اگر سامنا ہوا

صدیوں کا درد وقت کی آواز بن گیا
پھر سے بپا وہ معرکۂ کربلا ہوا

لایا ہے رنگ خون شہیداں بہ فیض شوق
نظروں کے سامنے ہے گلستاں کھلا ہوا

پتھر بنے ہوئے تھے زباں دے گیا ہمیں
احساس کی رگوں میں لہو بولتا ہوا

راہیں سمٹ سمٹ کے نگاہوں میں آ گئیں
جو بھی قدم اٹھا وہی منزل نما ہوا

آنکھوں میں مشعلیں ہیں فروزاں دوام کی
دل میں ہے تیری یاد کا کانٹا چبھا ہوا

تو منزل حیات سے آگے نکل گیا
میں آ رہا ہوں تیرا پتہ پوچھتا ہوا

جاں نذر کی تو دونوں جہاں مل گئے ہمیں
طے مرگ و زندگی کا ہر اک مرحلہ ہوا

یوں دل میں آج نور کی بارش ہوئی جمیلؔ
جیسے کوئی چراغ جلا دے بجھا ہوا

جمیل ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم