MOJ E SUKHAN

دی ہے اگر حیات تمنا کئے بغیر

غزل

دی ہے اگر حیات تمنا کئے بغیر
اب موت بھی عطا ہو تقاضا کئے بغیر

بازار زندگی ہے فقط گھومنے کی جا
کچھ بھی یہاں ملے گا نہ سودا کئے بغیر

میں بھی انا پسند ہوں لیکن کروں تو کیا
دل مانتا نہیں اسے سجدہ کئے بغیر

جلوہ نمود جسم ہے اور جسم ہے حجاب
پردے میں کوئی رہتا ہے پردہ کئے بغیر

منسوب کس سے ہوتی پھر آخر متاع دل
میں تم کو چھوڑ دیتا جو اپنا کئے بغیر

یہ کارنامہ ہے دل خود احتساب کا
میں پاکباز ہو گیا توبہ کئے بغیر

فریاد کس سے کیجئے اس چارہ ساز کی
جو چھوڑ دے مریض کو اچھا کئے بغیر

چپ رہ کے مطمئن ہیں نہیں جانتے سروشؔ
کچھ راز فاش ہوتے ہیں چرچا کئے بغیر

محمود سروش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم