MOJ E SUKHAN

راہ سفر میں چیز کوئی کیا تھی میرے پاس

راہ سفر میں چیز کوئی کیا تھی میرے پاس
بس میں تھا اور وسعت صحرا تھی میرے پاس

تھا میرے پاس گھٹتی ہوئی زندگی کا رنج
اور ایک لمبی خواہش دنیا تھی میرے پاس

اپنا ہر اک نظارہ دکھانا پڑا اسے
کرتا وہ کیا کہ چشم تماشا تھی میرے پاس

تپتے ہوئے دنوں میں کہیں تھی خنک ہوا
اور سردیوں میں آگ سی برپا تھی میرے پاس

کیا چیز تھی جو گھلتی رہی بہتے وقت میں
پل پل بدلتی رنگت دریا تھی میرے پاس

کیسے بگڑ گئی اسے کس نے بدل دیا
شاہیںؔ جو ایک صورت فردا تھی میرے پاش

جاوید شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم