MOJ E SUKHAN

کسی کے واسطے جینا محال تھے ہم بھی

کسی کے واسطے جینا محال تھے ہم بھی
کسی کا عشق کسی کا خیال تھے ہم بھی

بکھر کے رہ گئے بیوہ کی زندگی کی طرح
کسی کے واسطے اہل و عیال تھے ہم بھی

ہمیں سمجھنے کی کوشش تو کاش کرتے کبھی
جواب کی ہی طرح وہ سوال تھے ہم بھی

گلوں کو کھلتے ہوئے تم چمن میں دیکھو ذرا
کبھی انہیں کی طرح بے مثال تھے ہم بھی

اب ایک سوکھےہوئےبرگ کی طرح ہیں ہم
شجر کے تن پہ تھے تو باکمال تھے ہم بھی

تمہارے عشق میں پھانکی ہے خاک صحرا کی
اسی لئے تو مسلسل نڈھال تھے ہم بھی

بہار راس نہ آئی قمر کبھی ہم کو
خزاں کے واسطے لیکن بحال تھے ہم بھی

قمرسرور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم