MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں

غزل

گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں
نہیں ہوا پہ بھروسہ تو کچھ عجب بھی نہیں

کھلیں تو کیسے کھلیں پھول اجاڑ صحرا میں
سحاب خواب نہیں گریۂ طلب بھی نہیں

ہنسی میں چھپ نہ سکی آنسوؤں سے دھل نہ سکی
عجب اداسی ہے جس کا کوئی سبب بھی نہیں

ٹھہر گیا ہے مرے دل میں اک زمانے سے
وہ وقت جس کی سحر بھی نہیں ہے شب بھی نہیں

تمام عمر ترے التفات کو ترسا
وہ شخص جو ہدف ناوک غضب بھی نہیں

گلا کرو تو وہ کہتے ہیں یوں رہو جیسے
تمہارے چہروں پہ آنکھیں نہیں ہیں لب بھی نہیں

مفاہمت نہ کر ارزاں نہ ہو بھرم نہ گنوا
ہر اک نفس ہو اگر اک صلیب تب بھی نہیں

برا نہ مان ضیاؔ اس کی صاف گوئی کا
جو درد مند بھی ہے اور بے ادب بھی نہیں

ضیا جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم