MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں

رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں
کون ہے اپنے ہوش میں ظالم کس کا گریباں چاک نہیں

جب تھا زمانہ دیوانوں کا اب فرزانے آئے ہیں
جب صحرا میں لالہ و گل تھے اب گلشن میں خاک نہیں

فتنوں کی ارزانی سے اب ایک اک تار آلودہ ہے
ہم دیکھیں کس کس کے دامن ایک بھی دامن پاک نہیں

موج تلاطم خیر ہیں ہم ساحل کے قریب آتے ہی نہیں
وقت کی رو میں بہہ جائیں ہم ایسے خس و خاشاک نہیں

درد و کرب سے حشر بپا ہونٹوں پہ تبسم ہے اخترؔ
دل کا عالم کچھ بھی رہے آنکھیں تو مگر نمناک نہیں

اختر انصاری اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم