MOJ E SUKHAN

رہے گا پیاسوں سے پانی کا فاصلہ کب تک

رہے گا پیاسوں سے پانی کا فاصلہ کب تک
رہے گا گھر مرا میدان کربلا کب تک

ترے پڑوس کے پتھر کبھی تو جاگیں گے
رہے گا کانچ کے محلوں میں تو خدا کب تک

یہ زرد زرد سی مدقوق کونپلوں کے لئے
مرے بدن کا رہے گا شجر ہرا کب تک

چھپا سکوں گا کہاں تک میں اپنا عریاں بدن
تنی رہے گی اندھیروں کی یہ ردا کب تک

کسی کی زلف کے بادل کے پاس بیٹھا ہوں
یہ دیکھنا ہے کہ برسے گی یہ گھٹا کب تک

نہ چھیڑے گا کوئی سیلاب آرزو ساغرؔ
ٹکے گا آنکھ کی پتلی پہ آبلہ کب تک

ساغر خیامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم