MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عشق جھیلا ہے تو چہرہ زرد ہونا چاہئے

عشق جھیلا ہے تو چہرہ زرد ہونا چاہئے
حسن کے شیدائیوں کو مرد ہونا چاہئے

بد گمانی پونچھ کر آنچل سے کوئی چوم لے
اس لئے تصویر پر کچھ گرد ہونا چاہئے

سچ کہو تو ہر کہانی داستان اپنی ہی ہے
آدمی کے دل میں تھوڑا درد ہونا چاہئے

آج کے بوسوں میں سچائی کی سرخی ہے کہاں
اے مصور ان لبوں کو زرد ہونا چاہئے

اس مکاں میں رہنے والے مردہ دل انسان ہیں
اس محل کے پتھروں کو سرد ہونا چاہئے

ایک جیسے چہرے مہرے ایک جیسی نیتیں
بھیڑ میں سب سے الگ اک فرد ہونا چاہئے

ماں کا آنچل تھام کر رونا بہت آسان ہے
دور رہ کر رونے والا مرد ہونا چاہئے

ف س اعجاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم