MOJ E SUKHAN

میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا

میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا
غم دنیا کا کوئی ذکر تک آنے نہ دیا

اس کا زہرابۂ پیکر ہے مری رگ رگ میں
اس کی یادوں نے مگر ہاتھ لگانے نہ دیا

اس نے دوری کی بھی حد کھینچ رکھی ہے گویا
کچھ خیالات سے آگے مجھے جانے نہ دیا

بادباں اپنے سفینہ کا ذرا سی لیتے
وقت اتنا بھی زمانہ کی ہوا نے نہ دیا

وہی انعام زمانہ سے جسے ملنا تھا
لوگ معصوم ہیں کہتے ہیں خدا نے نہ دیا

کوئی فریاد کرے گونج مرے دل سے اٹھے
موقع درد کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیا

شاذؔ اک درد سے سو درد کے رشتے نکلے
کن مصائب نے اسے جی سے بھلانے نہ دیا

شاذ تمکنت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم