MOJ E SUKHAN

مرے علاوہ مرے قافلے میں کوئی نہیں

مرے علاوہ مرے قافلے میں کوئی نہیں
سو خوش ہوں اب کہ مرے راستے میں کوئی نہیں

سبھی کے پاس ھے سب کچھ مزے میں کوئی نہیں
شراب پی تو رھے ہیں نشے میں کوئی نہیں

وہ جن کے ساتھ گزرتے تھے میرے لیل و نہار
اب ان کا ساتھ تو کیا رابطے میں کوئی نہیں

بڑی طویل تھی فہرستِ دشمناں تو مگر
خدا کا شکر مرے حافظے میں کوئی نہیں

اگر یہ دل ھے ترا آئینہ تو پھر سن لے
میں کیسے مان لوں اس آئینے میں کوئی نہیں

سہیل اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم