MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے
تمنا گھر میں تنہا سو رہی ہے

صدائیں گھٹ گئیں سینے کے اندر
خموشی اپنی پتھر ہو رہی ہے

تمناؤں کے سینے پر رکھے سر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے

سنا ہے اپنا چہرہ زندگانی
مسلسل آنسوؤں سے دھو رہی ہے

یہاں سے اور وہاں تک نا امیدی
ہمارے دل کا عنواں ہو رہی ہے

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم