MOJ E SUKHAN

نظر میں اپنی کبھی اس قدر برا تو نہ تھا

غزل

نظر میں اپنی کبھی اس قدر برا تو نہ تھا
میں اپنے آپ سے پہلے گریز پا تو نہ تھا

یہ کیا کیا اسے تقدیر سونپ دی اپنی
مری طرح وہ اک انسان تھا خدا تو نہ تھا

گزر گیا جو برابر سے منہ چھپائے ہوئے
یہ سوچتا ہوں کہیں کوئی آشنا تو نہ تھا

کسے قبول تھا زندان آب و گل لیکن
اب اور اس کے سوا کوئی راستہ تو نہ تھا

جمی تھیں مجھ پہ نگاہیں جو اک زمانے کی
مجھے وہ مڑ کے سر راہ دیکھتا تو نہ تھا

تمام عمر رہی جس کی جستجو خاورؔ
کہیں وہ شخص مجھی میں چھپا ہوا تو نہ تھا

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم