MOJ E SUKHAN

حسن کیا کیا مسکرایا عشق کے انداز پر

غزل

حسن کیا کیا مسکرایا عشق کے انداز پر
نغمۂ غم جب بھی چھیڑا ہم نے دل کے ساز پر

خار زار زندگی کو بھی بنا دیتا ہے خلد
کیوں نہ ہم ایمان لائیں عشق کے اعجاز پر

تیری اپنی ذات میں مضمر ہے حسن لم یزل
کس لئے سجدے پہ سجدہ جلوہ گاہ ناز پر

جلوہ فرما کون مہر و ماہ کے پردے میں ہے
رقص کرتا ہے نظام دہر کس کے ساز پر

بال و پر سے کب کوئی پہنچا فراز عرش تک
یہ سعادت منحصر ہے ہمت پرواز پر

ہیں وہی مقبول عالم جو گریباں چاک ہیں
ہر کلی گل بن گئی اس انکشاف راز پر

آ گئی صحن چمن میں فصل گل تو کیا ہوا
ہیں وہی غم کے ترانے زندگی کے ساز پر

راز الفت غیر سے کہنا ہے ننگ عاشقی
ناز تھا منصور کو کیوں انکشاف راز پر

عشق کی قسمت میں ہوتے ہیں صلیب و دار بھی
شاد اے صابرؔ نہ ہو تو لذت آغاز پر

صابر ابوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم