MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ عالم ہے کہ ہر موج نفس ہے روح پر بھاری

وہ عالم ہے کہ ہر موج نفس ہے روح پر بھاری
خدا جانے یہ جینا ہے کہ جینے کی اداکاری

خدا وندا ترے ذوق عطا کو کیا کہے کوئی
ملی ہے ہم سے خفتہ قسمتوں کو دل کی بیداری

ڈراتا کیا دل سرکش کو احساس سزا لیکن
لرز جاتا ہے نام عفو سے ناز خطا کاری

نظر اٹھی کسی کی دل نے اک پیغام سا پایا
یہ لمحہ ہے کہ ہم اڑتی ہوئی سی کوئی چنگاری

اٹھائے زندگی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہوں میں
تمنائے سبکساری نہ احساس گرانباری

مٹائی جائے گی یہ مسکراتی ناچتی دنیا
ازل سے صرف اک دن کے لیے کیا کیا ہے تیاری

فرشتے رشک سے کیا کیا نہ تکتے ہیں اسے حرمتؔ
کوئی کرتا ہے پہلی بار جب عزم گنہ گاری

حرمت الاکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم