MOJ E SUKHAN

نظر نواز نظاروں کی یاد آتی ہے

غزل

نظر نواز نظاروں کی یاد آتی ہے
شکستہ دل کے سہاروں کی یاد آتی ہے

کبھی نگاہ محبت نے جس کو چھیڑا تھا
اب ان رباب کے تاروں کی یاد آتی ہے

نگاہ پڑتی ہے جب بھی کسی شگوفے پر
تمہارے ساتھ بہاروں کی یاد آتی ہے

جو مل کے چھوٹ گئے زندگی کی راہوں میں
اب ان حسین سہاروں کی یاد آتی ہے

مچلتی آرزؤں کے جلو میں اے شوکتؔ
سلگتی راہ گزاروں کی یاد آتی ہے

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم