MOJ E SUKHAN

برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھا

برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھا
جسم بھی تھوڑا پھیل گیا تھا رنگ بھی کچھ کچھ میلا تھا

تم بھی جس کو دیکھ رہے تھے وہ جو ایک اکیلا تھا
دبلا پتلا الجھا حیراں ارمانوں کا میلا تھا

جھیل کا شیشہ نیلے بادل کے ہونٹوں سے بھیگا تھا
دور تلک شاخوں کے نیچے سبز اندھیرا پھیلا تھا

بن دستک بھی کھولے رکھے ہم نے اپنے بند کواڑ
لیکن ہائے بھاگ ہمارا کوئی نہ ملنے آیا تھا

تم یہ سمجھے دیکھ رہی تھی تم کو لیکن تم کیا جانو
روپ تمہارا ہی تھا ویسے روپ میں کس کا سایا تھا

یوست تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم