MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھول مرجھا جائیں گے کانٹے لگے رہ جائیں گے

پھول مرجھا جائیں گے کانٹے لگے رہ جائیں گے
ہر خوشی مٹ جائے گی بس دکھ ہرے رہ جائیں گے

لالہ زاروں کہساروں میں تمہیں ڈھونڈیں گے ہم
یاد کے بے نام سے کچھ سلسلے رہ جائیں گے

تم قریب ہو کر بھی اتنی دور ہوتے جاتے ہو
قربتوں کے درمیاں بس فاصلے رہ جائیں گے

تصفیہ مابین اپنے ہو نہ پائے گا کبھی
ہم انا کی آگ میں جلتے ہوئے رہ جائیں گے

عزم کی شمعیں امیدوں کی ہر اک قندیل کو
ہم بجھا کر ظلمت شب میں کھڑے رہ جائیں گے

سرمہ و غازہ کے بدلے دھول جمتی جائے گی
سب کے چہرے گرد قسمت سے اٹے رہ جائیں گے

سب چلے جائیں گے اک بے نام منزل کی طرف
گھر کی تختی کی جگہ کتبے لگے رہ جائیں گے

تسنیم عابدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم