MOJ E SUKHAN

نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق

غزل

نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق
ابھی دل پر ترے اترا کہاں عشق

ابھی تک صرف آوازیں سنی ہیں
ابھی تک لکھ رہی ہیں انگلیاں عشق

زباں پر اس قدر گردان کیوں ہے
تو کیسے ہوش میں کہتا ہے ہاں عشق

زمیں سے آسماں تک گل کھلے ہیں
تڑپ کر ہو رہے ہیں جسم و جاں عشق

یہی تو اعتبار شب کدہ ہے
مرا حاصل ہے یہ کار زیاں عشق

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم